آئینی بینچ کو سونپنے کے مطالبے کی وی ایچ پی مخالفت

بابری مسجد معاملہ
آئینی بینچ کو سونپنے کے مطالبے کی وی ایچ پی مخالفت
سپریم کورٹ میں دونوں فریقوں کے وکلاء نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، اگلی شنوائی ۱۵؍مئی کو
آج بھی ہندوستانی مسلمان اور انصاف پسند عوام کے جذبات بابری مسجد مقدمہ سے جڑے ہوئے ہیں:ارشدمدنی
بابری مسجد، ۲۷؍ اپریل ۔ رام جنم بھومی معاملہ میں سپریم کورٹ میں آج سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند نے اس معاملہ کو آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ہندو تو وادیوں کے وکیل نے اس کی مخالفت کی ہے۔ جمعیۃ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل راجو رامچندرن نے کہا کہ یہ معاملہ کافی اہم ہے، اس لئے اسے آئینی بنچ کے سپرد کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے اسے غیر معمولی اہمیت والے مقدمے کے طور پر لیا تھا، قانون کے سوال پر نہیں۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کی طرف سے 2010 میں دئیے گئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ متنازعہ زمین کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے پیش وکیل نے یہ دلیل دی کہ اس مقدمہ کی حساسیت کی وجہ سے نہ صرف ایودھیا بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی نظم و نسق کی صورت حال متاثر ہوئی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے سے کوئی بھی فریق خوش نہیں ہے اس لئے تمام فریقین نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے لئے یہ معاملہ کافی اہم ہے۔ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا اس کا اثر سماجی تانے بانے پر پڑے گا، کیوں اس مقدمہ سے ملک کے دو مذہبی طبقے کے احساسات وابستہ ہیں۔وہیں دوسری طرف ہندو فریق کی طرف سے پیش وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ اب ملک 1992 سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ دو مذاہب کا نہیں بلکہ ملکیت سے وابستہ رہ گیا ہے۔ہریش سالوے نے کہا کہ مذہب اور سیاست کی بحث عدالت کے دروازے سے باہر کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت ملکیت سے جڑے اس معاملہ کی سنجیدگی کو سمجھتی ہے، تبھی اس کی سماعت کر رہی ہے۔ادھر ہندو مہا سبھا کے وکیل وشنو شنکر نے کیس کو آئینی بینچ کو بھیجے جانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ آئین کا نہیں ہے ، صرف ایک جائیداد تنازع ہے ، اس لئے اسے مذہبی یا سیاسی وجوہات کی بنیاد پر بڑی بینچ کو بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس کے بعد معاملہ کی اگلی سماعت کیلئے 15 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔دریں اثنا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جو ملک کے سماجی تانے بانے پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے، اس لئے اس معاملہ کو بڑی بینچ کو سونپا جائے۔جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے وکلاء کی بحث پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا ہے بلکہ اس موقف کی تائید بھی کی ہے کہ اس معاملہ کو ایک کثیر رکنی بینچ کے حوالہ کیا جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ ہم قانون اور عدلیہ پر مکمل اعتمادرکھتے ہیں ، اور امید کرتے ہیں کہ بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ میں تمام شواہد اور ثبوتوں کو مدنظررکھتے ہوئے عدالت اس کی بنیادپر ہی اپنا فیصلہ دیے گی ، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ اس مقدمہ سے مسلمانوں اور ملک کے تمام انصاف پسند لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں اس لئے فریق مخالف کے وکیل کا یہ کہنا سراسر غلط بات کہ اب یہ معاملہ زیادہ اہمیت کاحامل نہیں رہا انہوںنے کہا کہ معاملہ کی اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے جتناکہ روز اول تھی اس لئے کہ یہ تنہا ایک مسجد کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے سیکولر اور جمہوری کردارسے جڑا ہوا معاملہ ہے اور آئین وقانون کی بالادستی کا بھی کیونکہ ہرشخص جانتا ہے کہ کس طرح جبرا ایک مسجد کو شہید کرکے آئین وقانون کے رہنما اصولوں کی دھجیاں اڑادی گئی تھی ۔

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن