😢شہدائے قندوز کے نام

شہدائے قندوز کو سلام۔
پُرزور مُذمت کےسوا کچھ بھی نہیں ہے
حفاظ کےزخموں کی دوا کچھ بھی نہیں ہے
قندوز کے لوگوں کو گِلا ہے کہ تمہارے
جلسوں سےجُلوسوں سےمِلا کچھ بھی نہیں ہے
زخمی بدن  سے رِستہ لہو  کیسے  بولتا
ظالم تیرےستم کی وجہ کچھ بھی نہیں ہے
غمگین  مسلمان کے چہرے سے عیاں ہے
بارود کی بارش میں بَچا کچھ بھی نہیں ہے
اُمت لہولہاں ہوئی، پَر میرے دیس کے
اخبار کہہ رہے ہیں ہوا کچھ بھی نہیں ہے
گمنام  شہیدوں کی نگاہوں  نے  بتایا
دنیا کےجھمیلےمیں مزہ کچھ بھی نہیں ہے
قندوز  کے حالات کا  دُکھ ہے مگر یہاں
کتنےجواں ہیں جن کا پتہ کچھ بھی نہیں ہے
احبابِ  لاپتہ  کا  پتہ  کون   کرے  گا
اِس ضِمن میں حاکم نےکہا کچھ بھی نہیں ہے
امت کی زبوں حالی پہ ماتم کے علاوہ
ہُدہُد  تیری باتوں میں نیا کچھ بھی نہیں ہے
✍ہدہد بھائی
3/4/2018

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن