2019 کے عام انتخابات سے پہلے

*۹۱۰۲؁ء عام انتخابات سے پہلے*

 جوں جوں ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات قریب آ رہے ہیں، ملک کی مختلف ریاستوں میں فرقہ پرست تنظیموں نے سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوے مذہبی اور قومی تیوہاروں میں نکلنے والے جلوس اور ریلیوں کے بہانے کشیدگی پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔ چھبیس جنوری پر کاسگنج کے فسادات کے بعد، ہولی، ہندو سالِ نو، رام نَوْمی اور اب ہنومان جینتی میں بہار، بنگال اور راجستھان سمیت ملک کے کئی صوبوں سے فسادات و آتش زدگی کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

فرقہ پرست تنظیموں کا یہ ایک پرانا اور آزمودہ حربہ ہے کہ مسجد میں سور کا گوشت ڈال دیا جائے، مندر میں گائے کا گوشت پھینک دیا جائے، جان بوجھ کر مسلم اکثریتی علاقوں سے اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوے جلوس نکالا جائے، اور بہت معمولی ردِ عمل پر اور اکثر بنا کسی ردِ عمل کے ہی چھیڑ چھاڑ، پتھر پھینکنے جیسے الزامات لگا کر مکانات، دکانیں و دیگر اثاثے نذرِ آتش کردیے جائیں؛ تاکہ مقابل طبقے میں شدید طور پر عدمِ تحفظ اور ڈر کا احساس پیدا ہو جائے اور چاہ کر بھی وہ کوئی تعمیری اور اقدامی خیال ذہن میں نہ لائیں۔

کوبرا پوسٹ کے پراسرار طریقے سے کیے گئے حالیہ اسٹِنگ آپریشن میں میڈیا کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ مختلف میڈیا اداروں کے اینکرز کے درمیان ہندوتَو کے نظریے کو فروغ دینے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ فرقہ پرست جماعت نے آنے والے انتخابات کو ہدف بناکر نہایت منظم طریقے سے ملکی پیمانے پر فسادات بھڑکانے کے لیے جہاں سوشل میڈیا پر آئی ٹی سیل کا جال پھیلا رکھا ہے، وہیں زمینی سطح پر بھی بڑی تعداد میں ٹیمیں تشکیل دے کر فضا کو مسموم کیا جا رہا ہے۔

اب جب کہ انتخابات میں محض چند ماہ بچے ہیں، تو ہماری سیاسی قیادتوں کی اس حوالے سے کیا حکمتِ عملی ہوگی، یہ ابھی بہت موہوم اور غیر واضح ہے۔ کیا وہ ووٹ کاٹنے اور بانٹنے کی مفاد پرستی پر مبنی اپنی ماضی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک اور قوم کے حالیہ دگرگوں حالات کے تناظر میں سوچتے ہوے پارٹی کے مفاد کو قوم و ملت کے وسیع تر مفاد پر قربان کریں گی؟ کیا وہ اپنے آپسی اختلافات مٹاکر اور معمولی رنجشیں بھلاکر ایک پلیٹ فارم پر آئیں گی؟ ایک ایسے وقت میں جب قوم و ملت کو ان کے اتحاد و مضبوط قیادت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، کیا وہ خود اپنی حالیہ پوزیشن سے ایک پائے دان نیچے آ کر قوم کا اقبال بلند کریں گی؟ یہ چند ایسے سوال ہیں، جن کے جوابات جتنے جلدی دیے جائیں، ۲۰۱۹ء میں ہماری ملی اور سیاسی صورتِ حال متعین کرنے اور ماضی کے مقابلے اس میں کچھ بہتری لانے میں اتنی ہی آسانی ہوگی!


*نیک محمد*
کاروانِ امن و انصاف
مدرسہ خادم الاسلام بھاکری، جودھپور، راجستھان
millatmedia.com

Comments

Popular posts from this blog

الوداعی ترانہ

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن